6 اکتوبر، 2026، 11:41 AM

آبنائے ہرمز کھلی ہے بند، ٹرمپ کے بیانات نہیں بلکہ امریکی پٹرول پمپس بتائیں گے، نیکزاد

آبنائے ہرمز کھلی ہے بند، ٹرمپ کے بیانات نہیں بلکہ امریکی پٹرول پمپس بتائیں گے، نیکزاد

ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیک زاد نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے یا بند ہونے کا اندازہ امریکی عہدیداروں کے بیانات سے نہیں بلکہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں سے ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیک زاد نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی یا بند ہونے کا تعین امریکی حکام کے بے بنیاد بیانات یا سوشل میڈیا پوسٹس سے نہیں بلکہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں کے اشاروں سے ہوگا۔

پارلیمنٹ کے اجلاس میں ایجنڈے سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہا امریکی حکام، بالخصوص امریکی صدر کے بے بنیاد بیانات نہیں بلکہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں کے اشاریے آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند ہونے کا تعین کریں گے۔

نیک زاد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات ان کی مایوسی کا نتیجہ ہیں۔ یہ فطری امر ہے کہ ایک نام نہاد سپر پاور، عظیم ایرانی قوم کی مضبوط عزم اور پختہ ایمان کے ہاتھوں تلخ شکست کا سامنا کرنے کے بعد اپنی اس شرمناک ناکامی کو تسلیم کرنے سے گریز کرے، تاہم حقیقت کا تعین بیانات سے نہیں بلکہ میدان جنگ سے ہوتا ہے۔

ڈپٹی اسپیکر نے امریکہ کے عراق پر حملے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ عراق کو اپنی 51ویں ریاست بنانے کا ارادہ رکھتا تھا، لیکن اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ ایک طاقتور عراق چھوڑ کر وہاں سے نکلنا پڑا۔ عراق میں امریکہ کے 10 ہزار فوجی ہلاک اور 31 ہزار زخمی ہوئے۔

نیک زاد نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا مقصد داخلی سطح پر سیاسی مفادات حاصل کرنا اور امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونا ہے اور زمینی حقائق میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسلامی جمہوری ایران امریکہ کی جانب سے کسی بھی نئی جارحیت کا پہلے سے زیادہ مضبوط، فیصلہ کن اور سخت جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

News ID 1941910

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha